ابنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا یہ غم انگیز واقعہ انتہائی اہم ایشو بن چکا ہے اور اس افسوسناک واقعے نے دین اور انبیاء الہی کے بارے میں مغربی سوچ، عالم اسلام اور مغربی دنیا کے درمیان تعلقات کے مستقبل، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہیومن رائٹس سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلامیہ کی اصلاح اور مذہبی مقدسات کے موضوعات پر اظہار خیال کے انداز کو غیرمذہبی موضوعات پر اظہار خیال کے انداز سے جدا کرنے کے بارے میں کئی سنجیدہ اور اہم قسم کے سوالات کو جنم دیا ہے۔ علمی حلقوں میں پیدا ہونے والے سوالات کی اکثریت اس مسئلے سے متعلق ہے کہ اگر حساس قسم کے فکری موضوعات کو صحیح طور پر مینیج نہ کیا گیا تو فتنہ گر اور شرپسند عناصر ایسے فکری میدان میں داخل ہو جائیں گے جس میں وارد ہونے کی وہ بالکل صلاحیت نہیں رکھتے اور اس میدان میں انکا ورود ایک طرف دین کے پیروکاروں کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ و جدل ایجاد ہونے اور دوسری طرف دین اور حکومت کے آپس میں ٹکراو کا باعث بن جائے گا۔ یہ عمومی احساس دراصل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دین مخالف عناصر کی جانب سے مذہبی مقدسات کی توہین کے منصوبے انسانی تعلقات کو انتہائی شدید نقصانات پہنچنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس بارے میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ مذہبی مقدسات بالخصوص ایسے مقدسات جو نہ صرف ایک خاص دین میں مقدس جانے جاتے ہیں بلکہ تمام ادیان میں انکے تقدس پر اتفاق نظر پایا جاتا ہے پر یلغار کے نتیجے میں وہ خاص دین عالمی سطح پر رائے عامہ کی خصوصی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جب قرآن مجید کی بے حرمتی کی جاتی ہے تو بہت سے ایسے افراد بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخرکار اس مقدس کتاب میں کونسی ایسی چیز ہے جو ایک خاص طرز فکر رکھنے والے افراد کیلئے قابل برداشت نہیں جو اس سے پہلے قرآن مجید کے بارے میں زیادہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے تھے۔ یا جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی انجام پاتی ہے تو ایسے افراد کی تعداد کم نہیں ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور انکی دوران زندگی کے بارے میں مطالعہ کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر جارج بش کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کے دوبارہ آغاز کے اعلان سے لے کر 2005ء تک کے چار سال کے دوران یورپ میں قرآن کریم خریدنے والے افراد کی تعداد 1 کروڑ 70 لاکھ تک جا پہنچی۔ اسی رپورٹ کے مطابق عیسائی ممالک میں مسلمان ہونے والے افراد کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مغربی حکام کی مرضی کے خلاف اسلام براعظم امریکہ اور یورپ میں دوسرے بڑے دین کی حیثیت رکھتا ہے اور اس وقت ان دو براعظموں میں مسلمانوں کی آبادی 7 کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ دوسری طرف انتہائی موثق رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کی کمبریج اور آکسفورڈ یونیورسٹیز میں 1632ء اور 1636ء میں اسلام سے متعلق تحقیقاتی شعبوں کے قیام سے آج تک امریکہ اور یورپ کی جانب سے تقریبا ان 400 سالوں کے دوران اسلام کے خلاف شدید فعالیت اور ہزاروں کی تعداد میں مستشرقین کو اسلامی ممالک میں بھیجے جانے کے باوجود انہیں اپنے مقاصد میں ذرہ بھر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ مغربی مشنریز جو آج کل مڈل ایسٹ اسٹڈیز ایسوسی ایشن جیسی تنظیموں کی صورت میں سرگرم عمل ہیں کی اپنی شائع کردہ رپورٹس کے مطابق مسلمانوں کو عیسائی بنانے یا عیسائی اکثریت والے ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے سے متعلق تمام منصوبے بری طرح ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ مغربی ممالک نے متفقہ طور پر "دارالمسیحیت" اسٹریٹجی اپنا رکھی ہے جس کے تحت ان ممالک نے یہ عہد کر رکھا ہے کہ یورپ میں حتی ایک ایسا ملک بھی معرض وجود میں نہ آنے دیں جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہو۔ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں موجود اسلام سے متعلق تحقیقاتی اداروں میں سے ایک نے بھی ایک مذہبی انقلاب کی کامیابی کے امکان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ اس واقعے نے امریکی حکومت اور دوسرے مغربی ممالک کے حکام کو ان تحقیقاتی اداروں کی نسبت بدگمان کر دیا۔ لہذا اسکے بعد ان اداروں نے عالم اسلام میں رونما ہونے والی اجتماعی تحریکوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا۔ البتہ امریکہ کی سیاسی اور انٹیلی جنس تنظیموں نے بھی عالم اسلام پر اپنا تسلط بڑھانے کی خاطر نت نئے پراجیکٹس پر کام کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ میں اسلام سے متعلق تحقیقاتی اداروں نے دنیا میں رونما ہونے والی اجتماعی تحریکوں پر اس قدر توجہ مرکوز کر لی کہ ایک رپورٹ کے مطابق 1980ء سے 2000ء تک قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں پی اچ ڈی کرنے والے 900 اسٹوڈنٹس کے تھیسز کا موضوع ایران اور اس میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب سے متعلق تھا۔ ان تحقیقاتی اداروں نے بعد میں اعتراف کیا کہ انکی جانب سے ایران میں اسلامی انقلاب کی نسبت برتی جانے والی غفلت کی اصل وجہ مذہبی روشن فکر افراد پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرنا اور اس ملک میں موجود اصلی مذہبی طبقے کو نظرانداز کرنا تھا۔ بہرحال اسلام کے خلاف اس شدت پسندانہ رویے کی پیچھے عیسائی صہیونی اور انجلسٹ افراد کا ہاتھ ہے جو امریکہ کے اندر تمام مسلمانوں کو امریکہ سے نکال باہر کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر گذشتہ سال امریکہ میں مقیم ایک معروف یہودی اسلام شناس "اسٹنلے کورٹز" نے ویکلی جریدے "اسٹنڈرڈ واشنگٹن" میں اپنے ایک مقالے میں امریکہ میں اسلام سے متعلق تحقیقاتی اداروں کی جانب سے انجام دی جانے والی تمام تحقیقات اور تمام تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اسلام اور اسلام کی معاشرتی اقدار کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنایا جائے اور موجود فلم بلا شبہ اسٹنلے کورٹز کی تجاویز کا شاخصانہ ہے لیکن امت مسلمہ نے اس پر جو رد عمل دکھایا ہے وہ امریکیوں کے ہوش اڑا دینے کے لئے کافی ہے۔
.....
/169